میری درخت کہانی 

میرے خیال سے 1990 کی دہائی میں بچپن پانے والے اکثر لوگوں کا گھر کے عین وسط میں چھاؤں کئے درخت سے ایک رومانوی رشتہ ضرور رہاہوگا۔ ہمارے گھر بھی سرس کا وہ درخت مجھے آج بھی یاد ہے جس نے ہمارے چار گھروں کے مشترکہ آنگن کو سایہ مہیا کیا ہوتا تھا۔ سرس کے درخت کی چھاؤں میں بندھے وہ مویشی بے حد بھلے لگتے۔ ایک گائے جس کی کھرلی پہ چڑھ کر اس کے سینھگوں سے لٹکنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ میں آج زیادہ شدت سے اس سرس کے درخت کو اپنے خاندان کے فرد کی طرح محسوس کر سکتا ہوں۔ مجھے وہ سرس کا درخت اور اس کی چھاؤں میں بیٹھی دادی دونوں ہی اچھے سے یاد ہیں۔ وہ ہی پہلا درخت تھا جس پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھنا سیکھا تھا اور ہر گزرتے سال کے ساتھ ایک شاخ اونچا چڑھنے کی کامیابی کا احساس آج میری نوکری میں ترقی سے زیادہ رومانوی تھا۔ جن دنوں مویشیوں کی گھاس میں کمی واقع ہوتی تو وہی سرس کا درخت اپنی سر سبز شاخوں سے ان مویشیوں کا پیٹ پالتا۔ ہر سال شہد کی مکھی کا ایک بڑا سا چھتہ اس درخت میں لگا کرتا جسے اتارنے کے لئے ابا جی کے دوست شبیر صاحب کو بلایا جاتا۔ وہ بہار آنے سے پہلے درخت کی شاخوں کی کٹائی کرتا اور ہمارے لئے سال بھر کا دیسی گھر کا شہد مہیا ہوتا۔ اس شہد کی مٹھاس آج دکانوں پہ بکنے والے شہد سے یکسر مختلف تھی۔ جب درخت کی شاخیں کترنے والا اوپر سے اوپر شاخوں پہ چڑھتا تو ہم نیچے کھڑے اس سے پوچھتے کے اتنی بلندی پر سے دیکھنا کیسا لگتا ہے اور وہ کیا کیا اور کتنی دور دیکھ سکتا ہے۔ شبیر صاحب بھی بچوں کے تجسس کو دیکھتے ہوئے خوب کہانی سنایا کرتے کہ اب وہ دور سڑک پہ آتی لاری کو دیکھ سکتا ہے اور کبھی کبھی تو کئی کلومیٹر دور بہنے والے دریائے سندھ کو دیکھ پانے کا اعلان کرتا تو ہمیں اپنےآنگن میں کھڑے اس دیو قامت سرس کے درخت پہ رشک آتا۔ 

پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آبادی بڑھنے لگی گھروں میں درختوں اور مویشیوں کے لئے جگہ تنگ ہونے لگی اور وہ دن بھی ہم نے دیکھا جب اس دیو قامت درخت کو گھر میں نئے کمرے بنانے کی غرض سے جڑ سے کاٹا گیا۔ کچھ دن اس درخت کی غیر موجودگی میں وحشت ہوئی، گھر ویران ویران لگا اور پھر نئے گھر کی خوشی میں اس پرانے ساتھی کو بھلا دیا گیا۔ مگر آج بھی جب گاؤں جانا ہوتا ہے سرس کے اس درخت سے جڑی بچپن کی ہر کہانی تازہ ہو جاتی ہے۔ آج اس بچپن کے ساتھی کی یاد آتی ہے تو سوچتا ہوں کیوں نہ اپنی آنے والی نسل کے لئے ایسے کچھ درخت لگائے جائیں جن کے ساتھ ہمارے بچے اپنے بچپن کو خوبصورت بنائیں۔